تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے چالیس روز بعد مدینہ ایک اور عظیم سانحہ کا گواہ بنا۔ ایک روایت کے مطابق 8 ربیع الثانی 11 ہجری کو بضعۃ المصطفیٰ حامی المرتضیٰ ام الائمۃ الہدیٰ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت ہوئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کا غم ابھی تازہ تھا کہ اہل بیت علیہم السلام پر فراقِ زہرا سلام اللہ علیہا کا ایک اور صدمہ ٹوٹ پڑا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کا آخری دور غم، بصیرت اور حق گوئی سے عبارت تھا۔ ایک طرف پدرِ بزرگوار کی جدائی، دوسری طرف امت کے بدلتے حالات اور اہل بیت علیہم السلام کے حقوق سے متعلق پیدا ہونے والے مسائل؛ ایسے ماحول میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ اپنے موقف کو واضح کیا۔
خطبۂ فدک اسی فاطمی احتجاج کی نمایاں تاریخی علامت ہے۔
یہ خطبہ محض فدک کے مطالبہ تک محدود نہیں تھا۔ اس میں توحید، نبوت، قرآن، احکامِ شریعت، عدل اور اہل بیت علیہم السلام کے مقام و عظمت پر گفتگو ہوئی۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے قرآن و سنت کی روشنی میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے امت کو اس کی دینی اور اجتماعی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا۔
فاطمی احتجاج کی اہمیت یہ تھی کہ ذاتی غم کے باوجود حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنی اجتماعی ذمہ داری سے کنارہ نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی نے اپنے رنج کو حق کی گواہی میں تبدیل کردیا۔
مگر یہ حق گوئی ایک ایسے دور میں تھی جب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا خود شدید حزن و الم سے گزر رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی نے انہیں بے قرار کردیا تھا۔ سبطین رسول الثقلین امامین حسنین کریمین اور زینب و ام کلثوم سلام اللہ علیہم اپنی ماں کے قریب تھے، مگر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی نگاہوں میں اپنے بابا کی یاد ہر وقت تازہ تھی۔
چالیس دن کا یہ فاصلہ کتنا مختصر تھا! مدینہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فراق سے سنبھلا بھی نہ تھا کہ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کو اپنی شریکۂ حیات و حسنات کی جدائی کا سامنا کرنا پڑا۔ حسنؑ و حسینؑ نے ماں کو کھو دیا اور زینب و ام کلثوم سلام اللہ علیہما نے وہ صدمہ دیکھا جس کی بازگشت ان کی آئندہ زندگی میں سنائی دیتی رہی۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد رات میں تدفین اور قبر کے مخفی رہنے کی روایات نے اس سانحہ کو مزید دردناک بنا دیا۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی قبر مبارک کے مقام کے بارے میں تاریخی روایات مختلف ہیں، تاہم اس کا مخفی رہنا ان کی مظلومیت اور احتجاج کی ایک اہم علامت ہے۔
یہ خاموش قبر آج بھی ایک سوال کی طرح سامنے ہے کہ رسولؐ کی وہ بیٹی جس کے لئے نبیؐ بے حد احترام کا اظہار کرتے تھے، اس کی قبر آج بھی تاریخ کے لئے پوشیدہ کیوں ہے؟
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کو صرف مصائب و آلام کی داستان سمجھنا بھی ان کے مقام کو محدود کرنا ہے۔ وہ عبادت گزار تھیں، مگر عبادت نے انہیں اجتماعی شعور اور ذمہ داریوں سے غافل نہیں کیا؛ وہ پردہ دار تھیں، مگر ضرورت کے وقت حق رسالت کی گواہی دینے کے لئے میدان مباہلہ میں آئیں اور حق ولایت کی گواہی کے لئے مسجد میں تشریف لائیں؛ وہ غم زدہ تھیں، مگر ان کا غم حق کے دفاع کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا۔
یہی فاطمی کردار آگے چل کر حسنی صبر، حسینی قیام اور زینبی استقامت میں اپنی جھلک دکھاتا ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے مختصر حیات میں یہ درس دیا کہ حق کی حفاظت صرف طاقت سے نہیں، بصیرت، دلیل، کردار اور استقامت سے بھی ہوتی ہے۔
ان کی شہادت کا سوگ صرف ماضی کا نوحہ نہیں؛ یہ حق و باطل، عدل و ظلم اور وفاداری و بے وفائی کے درمیان انسانی و دینی ذمہ داری کی یاد دہانی بھی ہے۔
اربعینِ نبوی کے اس فاطمی المیہ میں ایک بیٹی اپنے بابا کے فراق کے بعد ان سے جا ملی؛ مگر اپنے پیچھے ایسا پیغام چھوڑ گئی جو صدیوں بعد بھی اہلِ حق کے دلوں کو بیدار کرتا ہے۔
سلام ہو اس زہرا سلام اللہ علیہا پر، جن کی مظلومیت آج بھی دلوں کو اشک بار کرتی ہے، جن کی بصیرت اہلِ ایمان کو فکر عطا کرتی ہے اور جن کی حق گوئی ہر دور کے لئے احتجاج کا استعارہ بن چکی ہے۔
السلام علیکِ یا فاطمة الزہراء، یا بنت رسول اللہؐ، یا زوجة ولی اللہ، یا أم الحسن والحسین (سلام اللہ علیہم)









آپ کا تبصرہ